نئی دہلی، 9؍جون (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )عام آدمی پارٹی کے سابق لیڈر کپل مشرا مسلسل دہلی کے وزیر اعلی اروند پر حملے بول رہے ہیں۔جمعہ کو کپل مشرا اروند کیجریوال کے گھر کے باہر اپنے حامیوں کے ساتھ پہنچ گئے۔پولیس نے انہیں راستے میں روک لیا، لیکن وہ اروند کیجریوال سے ملنے کی ضد پراڑے رہے۔وہیں کھڑے ہو کر اپنے کارکنوں کے ساتھ بھجن گانے لگے۔کپل مشرا ’اٹھ جاگ مسافر صبح ہوئی ، جو سووت ہے ،وہ کھووت ہے جو جاگت ہے وہ پاوت ہے‘گاتے نظرآئے ۔دراصل، اروند کیجریوال کے جنتا دربار میں کپل مشرا 7 تجویز کے ساتھ ملاقات کرنے پہنچے تھے۔حالانکہ پولیس نے صرف کپل کو اندر جانے کی اجازت دی، لیکن کپل اپنے ساتھ آئے تمام لوگوں کو اندر لے جانے پر اڑے رہے، تقریبا 45منٹ تک کپل اپنے حامیوں کے ساتھ اروند کے خلاف نعرے بازی کرنے کے بعد وہاں سے یہ وعدہ کر کے چلے گئے کہ وہ اگلی بار اور لوگوں کے ساتھ اروند کے گھر آئیں گے۔کپل مشرا نے کہاکہ میں یہاں صرف 15-20لوگوں کے ساتھ آیا تھا، ایسے جنتا دربار کا کیا فائدہ، جب یہاں عوام کو آنے کی اجازت نہیں ہے؟ مشرا نے پہلے ہی جنتا دربار میں آنے کا اعلان کر دیا تھا، جس کے بعد پولیس نے برخاست وزیر اور ان کے حامیوں کو روکنے کے لیے وزیر اعلی کی رہائش گاہ کے آس پاس رکاوٹ کھڑی کردی تھی ۔مشرا نے صحافیوں سے کہاکہ ہم یہاں کیجریوال اور جین کے خلاف لگے بدعنوانی کے الزامات پر بحث کے لیے رام لیلا میدان میں دہلی اسمبلی کا ایک خصوصی اجلاس منعقد کئے جانے کا مطالبہ کرنے آئے تھے ،لیکن ہمیں یہاں سے آگے ہی نہیں بڑھ دیا گیا۔مشرا نے کیجریوال اور جین سے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی کے الزامات لگنے کے بعد انہیں اپنے عہدے پر بنے رہنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔کپل مشرا نے کیجریوال کے گھر جانے سے پہلے ہی ٹوئٹ کرکے معلومات دی تھی کہ وہ وزیر اعلی کے جنتادربار میں جائیں گے اور ان کے ساتھ سنتوش کولی کی ماں بھی ہوں گی۔